April 27, 2024
Science Berg School
Unit_4 Hazrat Asma (R.A.)

|
1۔ رسول ﷺ اور
اُن کے قریبی ساتھی حضرت ابوبکر نے 622ء میں مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔جب مختلف قبائل کے سرداروں کو
رسول ﷺ اور اُن کے قریبی ساتھی حضرت
ابوبکر کی ہجرت کا علم ہوا تو وہ بھڑک اُٹھے۔
(قبائیلی) سردار اُن کو تلاش کرنے کے لیے پہلے سے بھی زیادہ پر عزم ہوگئے تھے۔ اُنہوں نے
آپ کی زندہ یا مردہ گرفتاری کے لیے بہت
بڑے انعامات اور رقوم کی پیش کش کی۔
|
|
2۔اس سفر کی تیاری حضرت ابو بکر صدیق کے گھر پر کی گئی۔ اس حوالے سے حضرت اسماء نے بڑی کار آمد خدمات سر انجام دیں۔ آپ نے اس سفر کے لیے کھانا تیار کیا۔ باندھنے کے لیے جب کوئی چیز
نہ ملی تو اُنہوں نے اپنی چادر سے کھانا اُونٹ کی پشت پر باندھ دیا۔ اس خدمت کے
لیے آپ کو رسول ﷺ کی طرف سے "ذات
النطاقین" کا خطاب ملا۔
|
|
3۔اس خطرناک سفر کے دوران رسول ﷺ کو کھانا پہنچانا ہر کسی کے لیے
انتہائی مشکل تھا۔ یہ انتہائی نازک موقع تھا کہ جس میں ذرا سی غلطی سے رسول ؐ کی
زندگی خطرے میں
پڑ سکتی تھی۔یہ اہم کام حضرت ابوبکر کی بیٹی حضرت اسماء نے بڑے اچھے طریقے سے سر انجام دیا۔وہ ہر رات کھانے کی گٹھڑی لے
کر اُن پتھریلے پہاڑوں کی طرف روانہ ہو جاتیں جن میں غار ثور واقع تھا۔یہ کام
کرتے ہوئے ہر وقت وہ انتہائی محتاط رہتی تھیں۔ تعاقب کیے جانے کے مسلسل خوف کے
ساتھ رات کو پتھریلے راستوں پر آڑھا ترچھا ہو کر چلنا اُن کے کے لیے کتنا مشکل
رہا ہوگا۔
|
|
4۔ہجرت کی رات کفار کا ایک قبائیلی سردار ابوجہل غصے میں پاگل
ہوکر حضرت ابوبکر صدیق کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اس نے دروازے پر اندھا دھند دستک دینا
شروع کردی۔ حضرت اسماء سے مخاطب ہوتے ہوئے اس نے مطالبہ کیا کہ" تمہارا باپ کہاں
ہے"؟ آپ نے بڑی نرمی سے جواب دیا:" مجھے کیسے
پتا ہو سکتا ہے؟" ۔ اس جواب سے حضرت اسماء کی دانشمندی اور حوصلہ ظاہر ہوتا ہے۔ آپ نے کوئی وضاحت نہیں کی جس سے اُن(کفار) کو کوئی سراغ ملتا۔آپ نے سادگی سے ایک جوابی سوال کردیا ، جس سے ابوجہل بھڑک اُٹھا۔
اس نے اتنے زور سے حضرت اسماء کے چہرے پر تھپڑ لگایا کہ آپ کے کان کی بالی ٹوٹ کر گر پڑی، مگر آپ ڈٹی رہیں اور راز کو فاش نہیں کیا۔
|
|
5۔ آپ کے دادا حضرت ابو قحافہ اس وقت کافر تھے۔ وہ بہت بوڑے اور اندھے
ہو چکے تھے۔ اُنہوں نے آپ سے کہا " اسماء میرے خیال میں ابوبکر تمہیں اور بچوں کو
خالی ہاتھ اور لاچار چھوڑ کر ساری دولت اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ اس بات پر وہ فوراً
گھر کے ایک کونے کی طرف بھاگیں۔ اُنہوں نے کچھ کنکر جمع کیے اور ان کو اسی جگہ
پر رکھ دیا جہاں آپ کا والد رقم اور جواہرات رکھ کرتا تھا۔ آپ نے ان کو ایک کپڑے کے ٹکڑے سے ڈھانپ دیا۔ "آؤ دادا جان
دیکھو ، وہ یہ سب ہمارے لیے چھوڑ گئے ہیں"۔ اس نے کپڑے کو چھوا اور سوچا کہ
یہ سونے اور جواہرات سے بھرا ہوا ہے۔ اس کی پریشانی ختم ہو گئی اور اس نے یہ جان
کر خوشی محسوس کی کہ ابوبکر صدیق اپنی ساری دولت گھر پر چھوڑ گیا ہے۔
|
|
6۔حضرت اسماء اسلام قبول کرنے والے لوگوں میں سے ایک تھیں۔ وہ حضرت ابوبکر
صدیق کی بیٹی اور حضرت عائشہ کی سوتیلی بہن تھیں۔وہ حضرت زبیر بن الاعوام کی بیوی اور
حضرت عبداللہ بن زبیر کی ماں تھیں۔آپ نے تقریباً سو سال کی پکی عمر میں وفات پائی۔ حجرت عبداللہ بن
زبیر کہا کرتے تھے کہ اُنہوں نے آج تک اپنی
خالہ حضرت عائشہ صدیقہ اور اپنی ماں سے بڑھ کر کوئی سخی اور کھلے دل والا نہیں دیکھا۔
حضرت اسماء اتنی سخی تھیں کہ اپنی بہن حضرت عائشہ کی وفات کے بعد وراثت
میں ملنے والا باغ اُنہوں نے فوری طور پر فروخت کر دیا۔ اُنہوں نے فوری طور پر
یہ رقم غرباء اور ضرورت مندوں میں تقسیم کردی۔ اُن کے گھر کی دہلیز سے کبھی کوئی
خالی ہاتھ واپس نہ مڑا۔
|
|
7۔حضرت اسماء اپنے حوصلے ، سخاوت اور
دانشمندی کی وجہ سے ہمیشہ یاد رہیں گی۔ آپ کا اللہ پر پختہ ایمان تھا۔ اُن کی زندگی ہم سب کے لیے ہمیشہ
مشل راہ رہے گی۔
|