April 27, 2024
Science Berg School
Unit_12 Three Days to See

|
1۔بعض اوقات میں سوچتی ہوں کہ
ہر دن اس طرح گزارنا کہ جیسے ہم کل مر جائیں گے، ایک شاندار اصول ہو گا۔
اس گرح کا رویہ اندگی کی اقدار پر بڑی تیزی سے زور دے گا۔ہمیں ہر دن شرافت ،جوش
و جذبہ اور صلہ و ستائش کے ذوق و شوق
میں گزارنا چاہیے جو اکثر اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب ہمارے سامنے آنے والے دنوں
، مہینوں اور سالوںکی صورت میں وقت کا
مستقل تصور قائم ہوجاتا ہے۔ یقینناً ایسے لوگ بھی ہونگے جو عیش پسندی کے
معقولے"کھاؤ پیو اور موج اُڑاؤ" کو اپنائیں گے لیکن زیادہ تر لوگ سر
پر کھڑی موت کے یقین سے سنور جائیں گے۔
|
|
2۔ کہانیوں میں تباہی کے کنارے پر کھڑا ہیرو آخری لمحے پر خوش
قسمتی کی وجہ سے بچ جاتا ہے لیکن اس کا جذبہ اقدار ہمیشہ کے لیے تقریباً تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ زندگی کے معنوں اور اس
کی مستقل روحانی اقدار کا زیادہ قدر دان ہو جاتا ہے۔ یہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے
کہ وہ لوگ جو موت کے منہ میں رہتے ہیں یا رہ چکے ہیں وہ اپنے ہر کام میں ایک
خوشگوار خوبصورتی لے آتے ہیں۔
|
|
3۔ اگر مجھے صرف تین دنوں کے لیے اپنی آنکھوں کے استعمال کی
اجازت سے دی جائے تو شاید میں یہ تصور کرتے ہوئے بہتر طور پر وضاحت کر سکوں گی
کہ میں سب سے زیادہ کیا دیکھنا پسند کروں گی۔
|
|
4۔پہلے دن میں اُن لوگوں کو دیکھنا چاہوں گی جن کی رحمدلی، شرافت
اور دوستی نے میری زندگی کو جینے کے قابل بنایا ہے۔
|
|
5۔ اگلے روز بصارت کے دوسرے دن مجھے صبح سویرے جاگنا چاہیے اور
وہ پر جوش معجزہ دیکھنا چاہیے جس سے رات دن میں تبدیل ہوتی ہے۔مجھے زندگی کا وہ
شاندار منظر خوف کے احساس کے ساتھ دیکھنا چاہیے جس سے سورج سوئی ہوئی زمین کو
جگاتا ہے۔
|
|
6۔ اس دن کو مجھے دنیا کے ماضی اور حال کا تیزی سے نظارہ کرنے کے
لیے وقف کرنا چاہیے۔ میں انسانی ترقی کا شاندار منظر اور زمانوں کا تبدیل ہوتا ہوا منظر دیکھنا
چاہوں گی۔ اتنا سب کچھ ایک دن میں کیسے
مختصر طور پر دیکھا جا سکتا ہے؟ یقینناً عجائب گھروں کے ذریعے۔
|
|
7۔آنے والی صبح کو نئی خوشیوں کی دریافت میں بے چین، میں صبح
صادق کو خوش آمدید کہوں گی کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ جن کے پاس واقعی
دیکھنے والی آنکھیں ہیں وہ ہر روز کی صبح مکمل طور پر حسن کا نیا کھلنے والا راز
دیکھتے ہوں گے۔ یہ میرے معجزے کی شرائط کے مطابق دیکھنے کے لیے تیسرا اور آخری
دن ہوگا۔
|
|
8۔ کھوئی ہوئی خواہشات کے پچھتاوے پر ضائع کرنے کے لیے میرے پاس
وقت نہ ہو گا: کیونکہ میرے پاس دیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ پہلا دن میں نے اپنے
دوستوں، جاندار اور بے جان اشیاء کے لیے وقف کیا۔دوسرے دن مجھ پر انسان اور فطرت
کی تاریخ عیاں ہوئی۔ آج کا دن میں دنیا کی موجودہ اندگی کے اُن مقامات کے کاموں
پر بسر کروں گی جہاں انسان زندگی کے کاروبار کے لیے آتے جاتے ہیں۔ جس طرح انسانی
سرگرمیاں اور حالات نیو یارک میں ہیں بندہ اور کہاں دیکھ سکتا ہے۔ تو پس یہ شہر
میری منزل بن جاتا ہے۔
|
|
9۔کبھی کبھی میں نے بصارت رکھنے والی دوستوں کو یہ جاننے کے لیے
آزمایا کہ وہ کیا دیکھتے ہیں۔ حال ہی میں میری ایک اچھی دوست مجھے ملنے آئی جو
کہ جنگل سے اک لمبی سیر کے بعد واپس آئی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس نے وہاں
کیا دیکھا؟ اس نے جواب دیا" کوئی خاص نہیں"۔ اگر میں ایسے جوابات کی
عادی نہ ہوتی تو مجھے شاید یقین نہ آتا ،کیونکہ لمبا عرصہ پہلے مجھے یقین ہو گیا
تھا کہ بصارت والے لوگ بھی بہت کم دیکھتے ہیں۔
|
|
10۔ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ جنگل میں
ایک گھنٹہ سیر کرنا اور کوئی بھی قابل توجہ چیز نہ دیکھنا۔ میں جو دیکھ بھی نہیں
سکتی صرف چھونے سے دلچسپی کی سینکڑوں چیزیں تلاش کر سکتی ہوں۔میں ایک پتے میں
پائے جانے والے دلکش تناسب کو محسوس کرتی ہوں ،میں"سلور برچ" کے درخت
کی ملائم سطح یا صنوبر کی کھردری ناہموار چھال پر پیار سے ہاتھ پھیرتی ہوں۔ موسم
بہار میں درختوں کی شاخوں کو اس اُمید سے چھوتی ہوں تا کہ سردیوں کی نیند کے بعد
فطرت کے جاگنے کی پہلی علامت یعنی کونپل کو تلاش کر سکوں۔ میں پھول کی خوشگوار
مخملی ساخت کو محسوس کرتی ہوں اور اس کی حیرت انگیز تہوں کو دریافت کرتی ہوں جس
سے قدرت کا کوئی معجزانہ پہلو مجھ پر عیاں ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی اگر قسمت ساتھ
دے تو میں نرمی سے اپنا ہاتھ ایک چھوٹے درخت پر رکھتی ہوں اور کسی پرندے کے مکمل
گیت کی خوشگوار تھرتھراہٹ کو محسوس کرتی ہوں۔ جب چشمے کا ٹھنڈا پانی میری کھلی
اُنگلیوں میں سے تیزی سے گزرتا ہے تو میں خوش ہوتی ہوں۔ میرے لیے صنوبر کے پتوں
کا گھنا قالین یا اسفنج نما گھاس ایک
بہت آرام دہ ایرانی قالین سے زیادہ کشش رکھتا ہے۔ میرے لیے موسموں کا شاندار
منظر ایک پر جوش اور نہ ختم ہونے والا کھیل ہے جسے میں اپنی انگلیوں کی پوروں سے
محسوس کرتی ہوں۔
|
|
11۔ اگر میں کسی یونیورسٹی کی صدر ہوتی تو" اپنی آنکھوں کو
کیسے استعمال کرنا ہے" کے عنوان سے تدریس کے لیے ایک لازمی نصاب بناتی اور
لاگو کرتی۔ پروفیسر اپنے شاگردوں کو دکھانے کی کوشش کرتا کہ کس طرح وہ توجہ دیئے
بغیر گزری ہوئی چیزوں کو غور سے دیکھ کر اپنی زندگیوں میں خوشیوں کا اضافہ کر
سکتے ہیں۔ وہ ان کی خوابیدہ اور بے عملی کا شکار ہونے والی صلاحیتوں کو بیدار
کرنے کی کوشش کرتا۔
|