(1) ۔حضرت محمد ﷺ کی زندگی ان لوگوں کے لیے ایک
بہترین نمونہ اور مثال ہے جو اپنی انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ معاشرتی
زندگی میں بھی اچھائی، تقویٰ اور کامیابی
حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لوگ اپنی زندگی کے
اخلاقی، روحانی اور سمعاشرتی شعبوں میں
کمال حاصل کرنے کے لیے آپﷺ کی زندگی کی
احادیث اور سنت سے روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ ﷺ نے تمام
انسانوں کی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کے لیے اپنی زندگی کی عملی مثال (سنت) کے ذریعے بہت
اعلیٰ اور شاندار نظریات قائم کیے ہیں۔
(2)
۔ حضرت محمد ﷺنے عملی طور پر ثابت
کر دیا کہ اللہ کے رسول ﷺ سے بڑھ کر
کوئی منصف اور عادل نہیں ہو سکتا۔ آپ ﷺ ایک ایماندار، منصفانہ اور انصاف پسند کاروباری
شخصیت ہوتے ہوئے ایک نوجوان تاجر کی حیثیت
سے آپ ﷺ بے اچھی
شہرت حاصل کی۔آپ ﷺ ہمیشہ تمام لوگوں سے منصفانہ اور شفاف لین دین
کرتے تھے۔ جب کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی تو حجر اسود کی تنصیب کے حوالے سے لوگوں کے درمیان ایک جھگڑا اُٹھ کحڑا ہوا۔ آپ ﷺ نے حجر اسود کی تنصیب کے حوالے سے انتہائی منصفانہ منصوبہ پیش کیا۔ اس سے سب خوش ہوگئے اور اس طرح ان کو ایک قبائلی تصادم سے بچا لیا۔
(3) ۔ مدینہ
کی ریاست کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے، آپ ﷺ نے رنگ، عقیدہ یا نسل سے قطع نظر تمام مقدمات کا فیصلے عدل و انصاف اور اصول انصاف کے ساتھ کیے۔ ایک دفعہ قریش کی ایک عورت چوری کی
گنہگار پائی گئی۔ کچھ لوگ قبیلہ قریش کی
عزت بچانے کے لیے اسے سزا سے بچانا چاہتے تھے ۔ ان لوگوں نے
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ وہ ان کے حق میں سفارش کریں۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺسے
معافی کی درخواست کی۔ رسول اللہ ﷺنے انتہائی غصے سے فرمایا کہ "بنی اسرائیل اسی
وجہ سے تباہ ہوئے ۔ وہ غریبوں پر قانون لا گو کرتے اور امیروں کو معاف کر دیتے تھے۔"
(4) ۔ خطاب
کے دوران ایک انصاری نے قبیلہ بنو ثعلبہ کے کچھ آدمیوں کو وہاں بیٹھے ہوئے دیکھا
تو کھڑے ہو گئے اور ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یا رسول اللہ ﷺان کے آباؤ اجداد
نے ہمارے خاندان کے ایک فرد کو قتل کیا تھا، ہم درخواست کرتے ہیں اس کے بدلے میں
ان میں سے کسی ایک کو پھانسی پر لٹکا دیا
جائے۔" حضرت محمد ﷺ فرمایا: "باپ
کا بدلہ بیٹے سے نہیں لیا جا سکتا"۔
(5) ۔رسول اللہ ﷺ اپنے
عدل و انصاف کے لیے اس قدر مشہور تھے حتیٰ
کہ یہودی بھی جو کہ آپ کے بد ترین دشمن تھے۔ آپ ﷺ کے پاس اپنے مقدمات لے کر
آتے اور رسول اللہ ﷺ یہودی قانون کے مطابق ان مقدمات کا فیصلہ کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے اللہ کے
اس فرمان کی بہت سختی سے پیروی کی:
"اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کر دو، یا مداخلت کرنے سے
انکار کر دو، اگر تم انکار کرو گے تو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اگر تم
فیصلہ کرو تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو۔ اللہ بلیے۔ انصاف سے فیصلہ کرنے والوں سے محبت کرتا
ہے۔" (5:42)۔
(6) ۔انصاف کا تقاضا ہے کہ اسے ہر حال میں سر بلند
رہنا چاہیے، خواہ یہ کسی کے اپنے آپ یا
اپنے خاندان یا اپنے رشتہ دار کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت محمد ﷺ نے اپنی ساری زندگی
دوسروں کے معاملات میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا اور اپنے ساتھیوں کو انصاف کرنے کا
حکم دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تمہارے پاس دو آدمی فیصلہ کے
لیے آئیں تو کبھی ایک کے حق میں دوسرے کی دلیل سنے بغیر فیصلہ نہ کرو، تو بہت
زیادہ امکان ہے کہ اس طرح تم سچ جان لو گے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو حاکم (یا
قاضی) غریبوں، ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں پر اپنا دروازہ بند کر لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس
پر اپنا دروازہ بند کر دیتا ہے جب وہ ضرورت مند اور بے سہارا ہو جاتا ہے۔
(7) ۔جب حضرت محمد ﷺ بستر مرگ پر تھے تو آپ نے
اعلان فرمایا کہ اگر میں نے کسی پر کچھ واجب کیا، یا میں نے کسی پر ظلم کیا، یا
کسی کے مال یا عزت کو نقصان پہنچایا، تو میری ذات، میری عزت اور میرا مال حاضر ہے۔
اس دنیا میں مجھ سے بدلہ لے سکتا ہے۔" مکمل خاموشی تھی۔ صرف ایک شخص نے چند
درہم کا مطالبہ کیا جو اسے ادا کر دیے گئے ۔
(8) ۔اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی مثال سے ثابت کیا کہ
آپ سے زیادہ انصاف کے لیے کوئی بھی ثابت قدم نہیں ہو سکتا، خواہ وہ آپ ﷺ کے اپنے مفاد یا آپ ﷺ کے قریبی عزیزوں کے مفاد کے خلاف ہو۔ آپ ﷺ نے کسی دوست یا دشمن کی طرف سے اپنے سامنے لائے گئے ہر
مقدمے کا فیصلہ بغیر کسی خوف اور حمایت کے انصاف کے ساتھ کیا۔ ایسی وسعت کا
حامل شخص ہی زمان و مکان کی رکاوٹوں کو
عبور کرتا ہے۔ ہر عمر کے لوگ اپنی
سرگرمیوں کے مختلف شعبوں میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے آپ ﷺ کی زندگی میں کچھ نہ
کچھ تلاش کر سکتے ہیں ۔ قرآن کریم نے آپ ﷺ
کی زندگی کے ان پہلو کا واضح طور پر تذکرہ کیا ہے، ’’یقیناً آپ کے لیے اللہ کے
رسول ﷺ میں بہترین نمونہ ہے جو اس شخص کے لیے ہے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید
رکھتا ہے اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا
ہے۔ " (33:21)