April 27, 2024
Science Berg School
Unit_10 Drug Addiction

|
1۔آج کے دور میں منشیات کی عادت پوری دنیا کا ایک عام مسئلہ ہے۔ منشیات کی عادت کی بہت سی
صورتیں۔ لیکن ان میں سب سے زیادہ خطرناک اس پر مکمل انحصار ہے۔ لمبے عرصے تک
منشیات کا استعمال مستقل ذہنی اور جسمانی بیماری کا باعث بنتا ہے۔ جتنی زیادہ
خطرناک چیز استعمال کی جائے اُسی قدر اس کا خطرہ اور بڑھ جاتا ہے۔ اس کا مسلسل
استعمال منشیات پر مکمل انحصار کا باعث
بن جاتا ہے۔ منشیات کی کچھ اقسام ایسی
ہیں جو ذہنی اور جسمانی خرابی کا باعث بنتی
ہیں، وہ ہیروئن، چرس، تمباکو، ویلیم،کوکین اور شراب ہیں۔
|
|
2۔ نشے کی عادت ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے ہوتی ہے۔ چند اہم
ماحولیاتی عوامل ایسے ہیں جو نشہ کی عادت کا باعث بن سکتے ہیں، وہ برے دوستوں کا
اثر اور تکلیف دہ گھریلو پس منظر ہیں۔ جب نوجوان لوگ متواتر بری صحبت میں رہیں اور مہم جوئی
کی خاطر تجربات کرنے لگیں تو وہ نشہ کی عادت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایسے لوگ جو
اپنی زندگیوں سے غیر مطمین اور نا خوش ہوتے ہیں وہ زندگی کی ذمہ داریوں سے چھٹکارا پانے کے لیے نشہ
کی عادت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
|
|
3۔اس حوالے سے سب سے اہم پیش رفت ، نشے کے عادی فرد کی دوبارہ
بحالی اور صحت یابی ہے۔پاکستان سمیت کئی ممالک میں نشہ کے عادی افراد ، اُن کے
خاندان اور دوست اپنے مسئلہ کے متعلق دوسروں سے بات کرنا معیوب سمجھتے ہیں۔
دوسروں سے قطع تعلق ہو جانے کے ڈر کی وجہ سے وہ اس کے متعلق بات کرنے پر شرمندگی
محسوس کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف علاج مشکل ہو جاتا ہے بلکہ بر وقت علاج اور مشاورت
نہ ملنے کی وجہ سے نشہ کے عادی افراد مر جاتے ہیں۔
|
|
4۔ اس پر قابو پانے اور دوبارہ صحت یابی کے عمل کے لیے دوبارہ
بحالی کے مراکز بہترین مقامات ہیں۔ یہ مراکز متاثرہ افراد کی کڑی نگرانی کرتے
ہیں۔ان مراکز میں ان لوگوں کو مکمل طبی امداد اور راہنمائی مہیا کی جاتی ہے۔ اس
لیے منشیات کی لعنت کے عادی افراد کو کسی مناسب اور سند یافتہ دوبارہ بحالی کے
مراکز میں ضرور لے جانا چاہیے جہاں ان کے لیے مناسب دیکھ بھال اور علاج میسر ہو۔ اگرچہ اس کے لیے نشے کی
عادت کے مسئلہ کی فوری شناخت اور ان مراکز کی ٹیم کے ساتھ متاثرین کا مکمل تعاون
درکار ہوتا ہے۔
|
|
5۔نشہ کے عادی شخص کی دوبارہ بحالی میں جو دوسری چیز حصہ لیتی ہے
وہ مناسب مشاورت ہے۔ یہ کام جتنی جلدی کیا جائے متاثرہ افراد کے لیے اتنا ہی
بہتر ہے۔ نشہ کی عادت کی طرف دوبارہ لوٹ جانے کے خطرات کی وجہ سے نشہ کے عادی
فرد کی دوباری بحالی کے بعد بھی مشورت کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ بہتر تحریک اور
ہم آہنگی کے لیے ڈاکٹروں، خاندان والوں اور دوستوں کو چاہیے کہ وہ متاثرہ فرد پر
کڑی نگاہ اور مشاورت کا عمل ضرور جاری رکھیں۔
|
|
6۔ نشہ کی عادت واقعی کسی معاشرہ کے لیے بڑا سنگین خطرہ ہے۔ صرف
پاکستان میں ہی تقریباً پچاس لاکھ افراد نشہ کے عادی ہیں۔ متاثرہ افراد معاشی،
معاشرتی اور صحت جیسے مسائل کا بہت زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ پوری دنیا کی حکومتیں
معاشرہ سے نشے کی عادت کو ختم کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں لیکن اس کا مکمل طور پر
صفایا کرنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتا
ہے کہ اگر لوگ منشیات سے لاحق خطرات اور اثرات سے متواتر آگاہ ہوتے رہیں۔ اُنہیں
صحت مندانہ اور با مقصد زندگی بسر کرنے کے لیے تہیہ کر لینا چاہیے۔
|