April 27, 2024
Science Berg School
Unit_7 Sultan Ahmad Masjid

|
1۔ مسجد سلطان احمد
دنیا کی انتہائی متاثر کن یادگاروں میں سے ایک ہے۔ اس کا اندرونی حصہ نیلی
ٹائیلوں سے آراستہ ہونے کی وجہ سے یہ نیلی مسجد کے نام سے بھی مشہور ہے۔یہ ترکی
کے سب سے بڑے شہر استنبول میں واقع ہے جو 1453ء سے 1923ء تک سلطنت عثمانیہ کا
دارلحکومت تھا۔ اب یہ سیاحوں کی توجہ
کا ایک مقبول ترین مرکز بن چکی ہے۔
|
|
2۔ یہ 1609ء سے 1616ء کے
درمیان ، احمد اول کے دور حکومت میں تعمیر ہوئی تھی۔جیسا کہ رواج تھا کہ اس وقت
کی دوسری مساجد کی طرح یہ مسجد بھی اپنے
بانی کے مقبرہ ، ایک مدرسہ اور ایک مسافر خانہ پر مشتمل تھی۔
|
|
3۔ مسجد کی تعمیر1906ء میں شروع ہوئی۔ سلطان نے اپنے شاہی معمار
صدف ہار مہمت آغا کو اس منصوبے کا انچارج مقرر کیا۔ اس کی افتتاحی تقریب 1616ء
میں منعقد ہوئی۔ بد قسمتی سے سلطان اپنی زندگی میں اس مسجد کی تکمیل نہ دیکھ
سکا۔ یہ اس کے جانشین مصطفےٰ اول کے دور حکومت میں مکمل ہوئی۔
|
|
4- نیلی مسجد، مسجد عثمانیہ اور بازنطینی گرجا،دونوں کے طرز
تعمیر کی عکاسی کرتی ہے۔مسلم فن تعمیر کے عجائبات میں سے ایک مسجد "حاجیہ
صوفیہ" کو بھی نمونے کے طور پر مدنظر رکھا گیا۔ نیلی مسجد کو آج بھی اس کی
شان و شوکت، عظمت اور وسعت کے لحاظ سے بے مثال سمجھا جاتا ہے۔
|
|
5۔ مسجد کا ایک کھلا صحن ہے جو مسلسل محرابی چار دیواری سے گھِرا
ہوا ہے۔اس کے دونوں طرف "وضو" کی سہولیات ہیں۔ اس کے مرکز میں ایک
فوارہ ہےجو صحن کی وسعت کی نسبت تھوڑا چھوٹا ہے۔ مشرقی جانب دربار کے داخلی
دروازے پر لوہے کی ایک بھاری زنجیر لٹکتی تھی۔یہ حصہ صرف سلطان کے لیے مخصوص
تھا۔ یہ زنجیر وہاں اس لیے رکھی گئی تھی
تاکہ سلطان کو دربار میں داخل ہونے کے لیے ہر مرتبہ اپنا سر جھکانا پڑے۔
ذات باری کے سامنے ایک حکمران کی عاجزی کو یقینی بنانے کے لیے یہ ایک علامتی اظہار
تھا۔
|
|
6۔مسجد کے اندرونی حصے کی نچلی سطح پر بیس ہزار سے زیادہ ہاتھ سے
بنی ہوئی چینی کی ٹائیلیں ہیں جن پر گل لالہ کے پچاس سے زیادہ مختلف ڈیزائن بنے
ہوئے ہیں۔ گیلری کی سطح پر یہ ڈیزائن پھولوں،پھلوں اور سرو کے پودے کی شکل
اختیار کر لیتا ہے۔
|
|
7۔ اُوپر والا اندرونی حصہ نیلے رنگ سے مزین ہے۔ دو سو سے زائد
مسحور کن ڈیزائن میں رنگ کی ہوئی شیشے کی کھڑکیاں اس کے اندرونی حصے کو چمکانے
کے لیے قدرتی روشنی کو اندر آنے دیتی ہیں اور فانوس اپنی روشنی سے اسے اور
زیادہ چمکا دیتے ہیں۔ سجاوٹوں میں قرآن پاک
کی آیات بھی شامل ہیں۔ فرش قالینوں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔
|
|
8۔ مسجد کے اندرونی حصے کا سب سے اہم ترین عنصر اس کا محراب ہے، جو عمدہ طریقے سے کھدے ہوئے سنگ
ِمرمر سے بنا ہے۔محراب کی دائیں طرف بڑا
سجا ہوا ایک ممبر ہے۔مسجد کو اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ جب یہ بہت پر ہجوم ہوتو
بھر بھی مسجد میں بیٹھا ہر شخص ، امام صاحب کو دیکھ اور سن سکے۔
|
|
9۔ شاہی کمرہ
شمال مشرقی کونے میں واقع ہے۔ اس کا ایک اپنا ممبر ہے۔ جسے سبز،نیلے اور گلاب کی
پتیوں والے سفید پتھروں سے سجایا گیا تھا۔
|
|
10۔ نیلی مسجد کے
چھ مینار ہیں ۔ چار مینار مسجد کے چاروں کونوں میں کھڑے ہیں۔ پینسل کی اشکال
والے ان میناروں میں سے ہر ایک کے تین بالا خانے ہیں جبکہ دونوں دوسرے مینار صحن
کے آخر پر ہیں اور ان کے دو،دو بالا خانے ہیں۔
|
|
شام کو سیاحوں اور ترکوں کی بہت بڑی تعداد ، شام کی اذان
سننے کے لیے مسجد کے سامنے والے پارک میں جمع ہوتی ہے۔ مسجد روشنیوں سے جگمگا
اُٹھتی ہے اور اس طرح مومنوں کے دل بھی عشق ِ حقیقی سے منور ہو جاتے ہیں۔ تاہم
اتنے سالوں میں نیلی مسجد نے بہت کچھ کھویا ہے مگر پھر بھی اس نے اپنے سیاحوں کی
محبت کو نہیں کھویا ہے۔ یہ مسجد ابھی تک دنیا کی بے تحاشہ زیارت کیے جانے والی
یادگاروں میں سے ایک ہے۔
|