April 27, 2024
Science Berg School
Unit_11 Noise in the Environment
ماحول میں شور
|
1۔ صوتی آلودگی کی تعریف کچھ یوں کی گئی ہے کہ" شور کی کوئی بھی صورت جو
معمولاتِ زندگی کو خراب کرتی ہے"۔اگر اسے روکا نہ جائے تو یہ انسانی ذہن
اور جسم کے ساتھ ساتھ جانوروں پر بھی سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
|
|
2۔ شور کی آلودگی پاکستان میں بے سکونی، ذہنی دباؤ اور تکلیف دہ
عوامل پیدا کرنے والے سب سے بڑے اسباب میں سے ایک ہے۔ شہری علاقوں اور بڑے شہروں
میں شور کی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔مثال کے طور پر پنجاب تحفظ ِ
ماحولیات کے ادارہ نے ایک سروے میں دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں شور کی سطح 91
ڈیسی بل تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اس کی قابل قبول سطح 75ڈیسی بل ہے۔ اس کا مطلب ہے
کہ بہت سے لوگوں کی ذہنی اور جسمانی صحت پہلے ہی سے خطرے میں ہے۔
|
|
3۔پاکستان میں شور کی آلودگی کے بڑے ذرائع نقل و حمل، تعمیراتی
جگہیں، بجلی کے آلات کا غیر محتاط استعمال اور اونچی آواز میں بولنے کی عادات
ہیں۔ آمدورفت کے مختلف ذرائع جیسا کہ گاڑیاں، ہوائی جہاز، ریل گاڑیاں اور بحری
جہازوں سے آنے والا شور انسانی آبادیوں کے لیے بہت پریشان کن ثابت ہوتا ہے۔ شہری
علاقوں میں آبادی میں اضافے اور ترقی کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی ٹریفک میں بھی
اضافہ ہوا ہے۔ اس نے ڈرائیوروں کے غیر ضروری ہارن بجانے کی صورت میں شور کی
انتہائی زیادہ آلودگی کو وسیع پیمانے پر بڑھاوا دیا ہے۔ ہوائی اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں
کے قریب رہائشی علاقوں کی آبادی میں تیزی سے اضافے نے بھی رہائشیوں کو شور کے
مستقل اور ناقابلِ بچاؤ خطرے میں ڈال دیا ہے۔
|
|
4۔شہری علاقوں میں صوتی آلودگی کا ایک دوسرا سبب تعمیراتی جگہوں
پر ہونے والا کام ہے۔ شہری علاقوں میں عام طور پر تعمیراتی کام کی رفتار بڑی سست اور وقت کا زیاں ہوتا ہے۔ نقل و حمل،
تعمیراتی جگہوں پر استعمال ہونے والا سامان جیسا کہ چھیدنے اور سوراخ کرنے کی
آوازیں بھی شور کی آلودگی کا بڑا سبب ہیں۔ یہ نہ صرف عوام کو پریشان کرتا ہے
بلکہ تعمیراتی مزدوروں کی بھی ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ کا باعث بن کر متاثر کرتا
ہے۔
|
|
5۔ ٹیکنالوجی کا استعمال بھی صوتی آلودگی کا ایک اور ذریعہ ہے۔
مثال کے طور پر موبائل فون ، بجلی کے جرنیٹرز، میوزک سسٹمز اور ٹی۔وی وقت کے
ساتھ ساتھ تکلیف دہ ہو جاتے ہیں۔ ان تمام چیزوں کا بغیر نگرانی استعمال ان کو
آلودگی پھیلانے والے عناصر بنا دیتا ہے۔ جب لوگ دفتروں،ہسپتالوں،سکولوں اور
کالجوں میں جاتے ہیں تو عام طور اپنے مابائل فون کو بند یا طرز خاموشی پر نہیں
کرتے۔ وہ رہائشی علاقوں میں بجلی کے جرنیٹرز کا بھی بے تحاشہ استعمال کرتے ہیں
اور دوسرے رہائشیوں کے آرام میں خلل ڈالتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلند موسیقی یا ٹی۔وی
کو بلند آواز میں سننا صوتی آلودگی کا ایک اور سبب ہے۔ اس کے لیے لوگوں کو ذمہ
دار شہریوں جیسا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ دوسے لوگ اس طرح کے غیر محتاط
افعال کی وجہ سے تکلیف کا شکار نہ ہوں۔
|
|
6۔ صوتی آلودگی نہ صرف ماحولیاتی بگاڑ کا سبب بنتی ہے بلکہ اس کا
انسانی صحت پر بھی منفی اثر ہوتا ہے۔ یہ ایک حیاتیاتی دباؤ ہے اور سخت رویہ،
ہائی بلڈ پریشر،زیادہ ذہنی دباؤ،سماعت کی خرابی، بے چینی،ذہنی دباؤ اور بے خوابی جیسی کیفیات کا سبب بن
سکتا ہے۔ بے خوابی مزید بے چینی، بد مزاجی اور جذباتی دباؤ کی طرف لے جا سکتی
ہے۔ مزید یہ کہ شور کی آلودگی طلبہ کے تعلم اور توجہ کو بری طرح متاثر کر سکتی
ہے۔ امتحان کی تیاری کرنے والے طلبہ میوزک سسٹمز ٹی۔وی یا بجلی کے جرنیٹروں کی
بلند آواز کی وجہ سے جلد پریشان ہو سکتے ہیں۔ اس سے انہیں غیر ضروری ذہنی اور
جسمانی تناؤ ملتا ہے۔
|
|
7۔ پاکستان میں مختلف ذرائع سے آنے والے شور کے درجات کو کم کرنے
کی اشد ضرورت ہے۔ شور کے غیر ضروری درجات پر قابو پانے کے لیے حکومت کو لازمی
طور پر مختلف ذرائع فعال بنانا اور
استعمال میں لانا چاہییں۔ مثال کے طور پر پنجاب تحفظِ ماحولیات کا ادارہ رہائشی
علاقوں میں تقریباً 55ڈیسی بل اور کاروباری علاقوں میں 75ڈیسی بل شور کی سطح
تجویز کرتا ہے۔ یہ اعدادو شمار گورنمنٹ کی طرف سے لازماً سختی سے لاگو ہونے
چاہییں۔ مزید یہ کہ صوتی آلودگی کو کم سے کم کرنے کے لیے گورنمنٹ کو ٹریفک کی
ترتیب ست روانی، شور کرنے والی گاڑیوں کو سڑک پر آنے سے روکنا، جہاں ضروری ہو
شور کی راہ میں رکاوٹوں کا استعمال کرنا اور تعمیراتی کاموں کی جلد تکمیل کو
یقینی بنانا چاہیے۔ اپنے علاقے میں غیر ضروری شور پیدا کرنے والے عاملین کو
روکنے، قوانین بنانے اور لاگو کرنے کے لیے رہائشی انجمنوں کو بھی آگے آنا چاہیے۔
دفتروں، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں شور کے بہتر انتظام کے لیے موبائل فون
کا استعمال سختی سے منع ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں لوگوں کو اُونچی
آواز میں بولنے سے بھی روکنا چاہیے۔
|
|
8۔ صوتی آلودگی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور مقامی اور حکومتی سطح پر
اسے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو انسانی صحت پر شور کے خطرناک اژر کے بارے
میں لازماً زیادہ آگاہی پیدا کرنی چاہیے۔ اگرچہ ماحول میں اس تکلیف دہ چیز کے
غیر ضروری استعمال سے بچنے کے لیے مزید شہری احساس اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانے
کی ضرورت ہے۔ صرف اسی صورت میں ہمارا وطن انتہائی پر سکون اور رہنے کے لیے
خوبصورت جگہ بن سکتا ہے۔
|