|
1
|
Sometimes, I have thought
that it would be an excellent rule to live each day as if we would die
tomorrow. Such an attitude would emphasize sharply the values of life. We
should live each day with gentleness, vigor and a keenness for appreciation
which is often lost when time stretches before us in the constant panorama of
more days and months and years to come. There are those, of course, who would
adopt the epicurean mutton of “eat, drink and be merry” but most people would
be chastened by the certainty of impending death.
|
|
بعض اوقات
میں سوچتی ہوں کہ ہر دن اس طرح گزارنا
کہ جیسے ہم کل مر جائیں گے، ایک شاندار اصول ہو گا۔ اس گرح کا رویہ اندگی کی
اقدار پر بڑی تیزی سے زور دے گا۔ہمیں ہر دن شرافت ،جوش و جذبہ اور صلہ و ستائش کے ذوق و شوق میں گزارنا
چاہیے جو اکثر اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب ہمارے سامنے آنے والے دنوں ، مہینوں اور سالوںکی صورت میں وقت کا مستقل
تصور قائم ہوجاتا ہے۔ یقینناً ایسے لوگ بھی ہونگے جو عیش پسندی کے
معقولے"کھاؤ پیو اور موج اُڑاؤ" کو اپنائیں گے لیکن زیادہ تر لوگ سر
پر کھڑی موت کے یقین سے سنور جائیں گے۔
|
|
2
|
In stories, the doomed hero
is usually saved at the last minute by some stroke of fortune, but almost
always his sense of values is changed. He becomes more appreciative of the
meaning of life and its permanent spiritual values. It has often been noted
that those who live, or have lived, in the shadow of death bring a mellow
sweetness to everything they do.
|
|
کہانیوں
میں تباہی کے کنارے پر کھڑا ہیرو آخری لمحے پر خوش قسمتی کی وجہ سے بچ جاتا ہے
لیکن اس کا جذبہ اقدار ہمیشہ کے لیے تقریباً
تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ زندگی کے معنوں اور اس کی مستقل روحانی اقدار کا
زیادہ قدر دان ہو جاتا ہے۔ یہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ لوگ جو موت کے منہ
میں رہتے ہیں یا رہ چکے ہیں وہ اپنے ہر کام میں ایک خوشگوار خوبصورتی لے آتے
ہیں۔
|
|
3
|
The next-day the second day
of sight. I should arise with the dawn and see the thrilling miracle by which
night is transformed into day. I should behold with awe the magnificent
panorama of life with which the sun awakens the sleeping earth.
|
|
اگلے روز بصارت کے دوسرے
دن مجھے صبح سویرے جاگنا چاہیے اور وہ پر جوش معجزہ دیکھنا چاہیے جس سے رات دن
میں تبدیل ہوتی ہے۔مجھے زندگی کا وہ شاندار منظر خوف کے احساس کے ساتھ دیکھنا
چاہیے جس سے سورج سوئی ہوئی زمین کو جگاتا ہے۔
|
|
4
|
This day I should devote to a
hasty glimpse of the world, past and present. I should want to see the
pageant of man’s progress, the kaleidoscopic of the ages. How can so much be
compressed into one day? Through the museums, of course.
|
|
اس دن کو مجھے دنیا کے
ماضی اور حال کا تیزی سے نظارہ کرنے کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ میں انسانی ترقی کا
شاندار منظر اور زمانوں کا تبدیل ہوتا
ہوا منظر دیکھنا چاہوں گی۔ اتنا سب کچھ ایک دن میں کیسے مختصر طور پر دیکھا جا سکتا ہے؟ یقینناً
عجائب گھروں کے ذریعے۔
|
|
5
|
The following morning, I
should greet the dawn, anxious to discover new delights, for I am sure that,
for those who have eyes which really see, the dawn of each day must be
perfectly new revelation of beauty. This according to the terms of my miracle
is to be my third and last day of sight.
|
|
آنے والی
صبح کو نئی خوشیوں کی دریافت میں بے چین، میں صبح صادق کو خوش آمدید کہوں گی
کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ جن کے پاس واقعی دیکھنے والی آنکھیں ہیں وہ ہر
روز کی صبح مکمل طور پر حسن کا نیا کھلنے والا راز دیکھتے ہوں گے۔ یہ میرے معجزے
کی شرائط کے مطابق دیکھنے کے لیے تیسرا اور آخری دن ہوگا۔
|
|
6
|
How was it possible, I asked
myself, to walk for an hour in the woods and see nothing worthy of note? I
who cannot see can find hundreds of things to interest me through mere touch.
I feel the delicate symmetry of a leaf. I pass my hands lovingly about the
smooth skin of a silver birch.
|
|
میں نے
اپنے آپ سے سوال کیا کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ جنگل میں ایک گھنٹہ سیر کرنا اور
کوئی بھی قابل توجہ چیز نہ دیکھنا۔ میں جو دیکھ بھی نہیں سکتی صرف چھونے سے
دلچسپی کی سینکڑوں چیزیں تلاش کر سکتی ہوں۔میں ایک پتے میں پائے جانے والے دلکش
تناسب کو محسوس کرتی ہوں ،میں"سلور برچ" کے درخت کی ملائم سطح یا
صنوبر کی کھردری ناہموار چھال پر پیار سے ہاتھ پھیرتی ہوں۔
|
|
7
|
If I were the president of a
university, I should establish a compulsory course in “How to use your eyes”.
The professor would try to show his pupils how they could add joy to their
lives by really seeing what passes unnoticed before them. He would try to
awaken their dormant and sluggish faculties.
|
|
اگر میں کسی یونیورسٹی
کی صدر ہوتی تو" اپنی آنکھوں کو کیسے استعمال کرنا ہے" کے عنوان سے
تدریس کے لیے ایک لازمی نصاب بناتی اور لاگو کرتی۔ پروفیسر اپنے شاگردوں کو
دکھانے کی کوشش کرتا کہ کس طرح وہ توجہ دیئے بغیر گزری ہوئی چیزوں کو غور سے
دیکھ کر اپنی زندگیوں میں خوشیوں کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ وہ ان کی خوابیدہ اور بے
عملی کا شکار ہونے والی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کی کوشش کرتا۔
|