April 27, 2024
Science Berg School
Unit_9 All is not lost

|
1۔ بطور نرس یہ میرے پیشے کا آغاز تھا۔ میں نیورالوجی وارڈ
کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ(ICU) میں کام کرتی تھی۔ایک نوجوان پیشہ ور کی
حیثیت سے میں پوری دنیا کو بچانے کی خواہش رکھتی تھی۔ خطرناک حادثات سے متاثرہ مریضوں
کو تیزی سے صحت یاب ہوتے دیکھ کر میں خوش ہوتی تھی۔تاہم شدید عصبی خرابیوں کے
شکار افراد کی دیکھ بھال کرتے ہوئے مجھے بڑا دکھ ہوتا تھا۔
|
|
2۔ ایک دن بس کے حادثے میں زخمی ہونے والی نوجوان دوشیزا کے بستر
کے پاس کھڑی ہو کر میں حیرانگی سے سوچ رہی تھی کہ کیا یہ بھی دوسروں کی طرح جلد
صحت یاب ہو جائے گی۔ ایک مصروف سڑک عبور کرتے ہوئے تیز رفتار بس سے ٹکرانے کی
وجہ سے حِرا کے سر اور ریڑھ کی ہڈی پر گہری چوٹیں آئیں تھیں۔ میں نے اس کے بے
جان بازوؤں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس پر کئی ورزشیں آزمائیں مگر کوئی فائدہ
نہ ہوا۔ میں نے اس کی چھوٹی بہن کو بلوایا اور یہ سوچتے ہوئے اس سے باتیں
کروائیں کہ ممکن ہے کسی قریبی عزیز کی آواز سے شاید اس کے مردہ اعصاب متحرک ہو
جائیں۔ وہ دیکھ سکتی تھی مگر بول نہیں سکتی تھی۔ اس کی آنکھی ایک مخصوص بے بسی
کا اظہار کر رہی تھیں۔ میں اس کی آنکھوں کے ذریعے اس کا ذہن پڑھ سکتی تھی۔ شاید
وہ کہنا چاہتی تھی کہ" براہ مہربانی میری مدد کرو"۔
|
|
3۔ ایک ساتھی نرس میرے قریب آئی اور پوچھا،"راحیلہ تم کیا
کر رہی ہو؟ ہاری ہوئی جنگ لڑ رہی ہو"؟پہلے تو اپنی ساتھی سے مجھے مایوسی
بھرا تبصرہ سن کر دکھ ہوا۔پھر میں نے جواب دیا،" میں کوشش کر رہی ہوں کہ اس
کا ذہن اس کی بہن کی آواز سن سکے۔ اس کے ساتھ میں اس بات کو یقینی بنانے کی بہتر
کوشش میں ہوں کہ اس کے بازوؤں اور ٹبگوں کو بہتر ورزش حاصل ہو۔ اس سے اسے عام
انسانوں کی طرح چلنے میں مدد مل سکتی ہے"۔اسی دوران ڈیوٹی پر موجود ایک
سینئر ڈاکٹر اندر آئے ، اُنہوں نے مجھے طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھا اور کہا،"
اگر آپ اپنی ڈیوٹی کا زیادہ تر وقت ایک مریض پو صرف کریں گی تو ہمیں دوسرے
مریضوں کے لیے اور نئی نرسیں ملازم رکھنا ہونگی۔ مہربانی کر کے جاؤ اور دوسرے
مریضوں کو دیکھو۔ ہمیں اس (مریضہ) کے لیے زیادہ اُمید نہیں ہے۔ میرا خیال نہیں
کہ وہ دوبارہ کبھی چل سکے گی"۔
|
|
4۔میں پریشان تھی۔ مریضہ کو بغیر دیکھ بھال کے چھوڑنے کی ہدایت
مجھے درست معلوم نہیں ہوتی تھی۔ میں جانتی تھی کہ اس کے اعصاب بُری طرح متاثر ہوئے تھے، لیکن اسے موقع دینے
کی ضرورت تھی۔ کہیں سے میرے اندر کی آواز آئی" اس کے لیے ایک دفعہ اور کوشش
کرو"۔
|
|
5۔ میں سینئر نرس کے پاس گئی اور اس سے کہا کہ میں اس مریضہ کی
مدد اور اس کے ساتھ زیادہ قریب ہو کر کام کرنا چاہتی ہوں۔ سینئر نرس نے مجھے
انتہائی حیرت سے دیکھااور کہا کہ اسے انچارج ڈاکٹر کی طرف سے اس مریضہ کو جنرل
وارڈ میں منتقل کرنے کے احکامات ملے ہیں۔ڈاکٹروں کے خیال میں یہ ایک نا اُمید
کیس تھا اس لیے دوسرے مریضوں کے لیے بستر خالی ہونا چاہیے تھا۔ مجھے یہ سن کر
بہت دکھ ہوا۔ مریضہ کے اہل خانہ نے بھی مجھ سے درخواست کی کہ اس معاملے میؐ کوشش
کر کے میں ان کی مدد کروں۔ کچھ نہ کچھ کرنے کی ضرورت تھی۔ میں اپنی مریضہ کو
ہاری ہوئی جنگ لڑنے کے لیے اکیلے نہیں
چھوڑ سکتی تھی۔ میں نے ملازمت کا خطرہ مول لینے اور مریضہ کی مدد کرنے کے لیے
اپنا ذہن تیار کر لیا۔ میں نے سینئر ڈاکٹرز سے درخواست کی کہ مجھے اس بے بس
نوجوان مریضہ کی دیکھ بھال کرنے کی اجازت دیں۔ کسی نہ کسی طرح میں مریضہ کوICUمیں رکھنے میں کامیاب ہو گئی۔
|
|
6۔ میں نے حرا پر کام جاری رکھا۔ مگر وہ زیادہ بہتر نہیں ہو رہی
تھی۔ اسے بستر پر قابل رحم حالت میں دیکھ کر میں اس کی طرح خود کو بھی بے بس
محسوس کرنے لگی۔ کیا میں سینئر ڈاکٹرز کے سامنے اپنے رویہ کو درست ثابت کر سکوں
گی؟میں نے اُمید نہیں کھوئی،میں نے صبر سے کام جاری رکھا اور اسے ورزشیں کرواتی
رہی۔ میں اسے آہستہ آہستہ تھوڑا سا بہتر ہوتے دیکھ سکتی تھی۔ ایک دن میں اُسے اپنی چھوٹی اُنگلی اُٹھاتے دیکھ کر پر
جوش ہو گئی۔ سب کچھ نہیں کھویا تھا۔
|
|
7۔ مجھے تین ماہ کے تربیتی کورس پر کراچی بھیج دیا گیا۔ میں نے
اپنی مریضہ کو اچھے ہاتھوں میں دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ میں تین مہینوں کے بعد
واپس آئی تو میں نےاپنی مریضہ کے بستر
پر کسی اور کو دیکھا۔ میرے پاؤں زمین پر
جم گئے۔ مجھے یہ بھی پوچھنے کا حوصلہ نہ ہوا کہ" کیا ہوا؟"
|
|
8۔ ذہن میں اُبھرتے ہوئے کئی سوالات کے ساتھ جب میں اس کے بستر
کے قریب کھڑی تھی تو مجھے اپنے کاندھے پر ہلکی سی تھپکی محسوس ہوئی۔ میں نے مڑ
کر دیکھا تو ایک نوجوان عورت مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ " کیا تم اپنی
مریضہ کی تلاش میں ہو؟" یہ کہتے ہوئے وہ مجھے گلے ملی۔ ہر کام کے لیے آپ کا
شکریہ جو بھی آپ نے کیا! میں جانتی ہوں کہ مجھے اپاہج زندگی گزارنے کی آپ نے اُن کوع اجازت نہیں دی۔
|
|
9۔ میں ابھی تک کھڑی تھی حتیٰ کہ اس کے خاندان والے اپنے چہروں
پر بڑی مسکراہٹیں لیے میرے ارد گرد جمع
ہو گئے۔ خدا کا شکر ہے! کہ وہ میری مریضہ تھی، جو اپنے پاؤں پر کھڑی اور
چل رہی تھی۔اُس کے ارد گرد مشینری اور ٹیوبوں کے بغیر میں اُسے پہچان نہ سکی۔وہ
بیساکھیوں پر چلتی تھی جن کو اس نے چند مہینوں میں چھوڑ دینا تھا۔ میں خوش تھی
کہ میری کوششیں رنگ لے آئیں۔ لیکن میں سب سے زیادہ اس بات پر خوش تھی کہ اللہ نے
ہاری ہوئی جنگ جیتنے کے لیے میری مدد کی۔
|
|
10۔ وہ اور اس کے افراد خانہ میرے ساتھ گہری دوستی کے بندھن میں
بندھ گئے۔ میرے لیے ان کے احسان مندی کے جذبات دیکھ کر میں عاجز ہو جاتی تھی۔میں
نے اپنے اندر ایک نئی طاقت کا جذبہ محسوس کیا۔" جہاں چاہ وہاں راہ"
مجھے ایک نرس ہونے پر فخر تھا۔
|